حیدرآباد،17؍مارچ (ایس اونیوز ؍ایجنسی) نیو زیلنڈ کے کرائسٹ چرچ شہر کی دو مسجدوں میں ہوئے دہشت گرد حملہ میں 6 ہندوستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ ہلاک شدگان میں 4 گجرات اور ایک ایک حیدرآباد سے وابستہ ہیں۔ اس حملہ کی زد میں 7 ہندوستانی آئے تھے جن میں ایک کا علاج چل رہا ہے، زخمی شخص حیدرآباد سے وابستہ ہے۔
قبل ازیں حکومت کے ذرائع نے کہا تھا کہ دو ہندوستانی نژاد زخمی ہوئے ہیں اور 7 لاپتہ ہیں، جن میں دو ہندوستانی نژاد نیو زیلینڈ کے شہری ہیں۔ گجرات کے چار خاندان اور حیدرآباد اور کیرالہ کے ایک ایک خاندان ہلاک شدگان کے جسد خاکی کو واپس لانے کے لئے نیو زیلینڈ روانہ ہو گئے ہیں۔
حملہ میں گجرات کے دڈودرا سے وابسہ 58 سالہ عارف بوہرہ اور ان کے بیٹے 27 سالہ رمیز بوہرہ کی موت ہوئی ہے۔ رمیز گزشتہ سات سال سے کرائسٹ چرچ میں اپنی بیوی کے ساتھ رہ رہے تھے، جبکہ ان کے والد حال ہی میں نیو زیلینڈ گئے تھے۔ ادھر نوساری کے جنید یوسف کارا کی بھی حملہ میں موت ہوئی ہے۔
بھروچ کے لنارا کے رہنے والے حافظ موسی ولی بھی حملہ میں زخمی ہوئے تھے گزشتہ روز دوران علاج ان کی موت ہو گئی۔ وہ کچھ وقت پہلے ہی نیو زیلینڈ رہنے گئے تھے۔ احمد آباد کے رہنے والے 65 سالہ محبوب کھوکھر کی بھی حملہ میں موت ہو گئی ہے۔
ادھر کیرالہ کی رہنے والی 23 سالہ اینسی بھی اس حملہ کا شکار بنی۔ اینسی اپنے شوہر عبد النظر کے ساتھ گزشتہ سال ہی نیو زیلینڈ میں شفٹ ہوئی تھی۔ ان کے شوہر ایک سپر مارکٹ میں کام کرتے ہیں جبکہ وہ ایگریکلچر ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ وہ کیرالہ کے تریچور ضلع کی رہنے والی تھیں۔
حیدرآباد سے وابستہ 31 سالہ فرہاد حسن کی بھی اس حملہ میں موت ہوئی ہے۔ فرہاد پیشہ سے سافٹویئر انجینر تھے وہ اپنے بیوی اور دو چھوٹے بچوں کے ساتھ نیو زیلینڈ میں رہ رہے تھے۔